فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے تعلق سے بی بی سی کی منافقت

(این ایچ نیوز پاک )فلسطین کے سفیر حسام زوملوٹ نے برطانیہ کے سرکاری ادارے بی بی سی نیوز کا دوہرے معیار بے نقاب کردیا۔

غزہ اور مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی حملوں کے بارے میں ایک انٹرویو کے دوران برطانیہ کے سرکاری ادارے  بی بی سی نیوز نائٹ کی اینکر ایملی مائٹلس بار بار فلسطینی سفیر سے پوچھتی رہی کہ کیا انہوں نے اسرائیل پر حماس کے راکٹ حملوں کی مذمت کی ہے جس پر انہوں نے جواب دیا، “حماس نے لوگوں کو گھروں سے بے دخل نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ انٹرویو حماس کے بارے میں نہیں ہے ، اسرائیل کے بارے میں ہے۔ اسرائیل نے اشتعال انگیزی کی ہے ، اسرائیل ہر اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے جس کا آپ صرف تصور کرسکتے ہیں۔ اسرائیل نے آج صبح مسجد اقصی میں 300 سے زائد نمازیوں، پر امن عبادت گزاروں کو زخمی کردیا۔

سفیر نے برطانیہ کے سرکاری نشریاتی ادارے  بی بی سی اینکر ایملی سے پوچھا کہ کس کی مذمت کی جانی چاہئے؟ کیا آپ نے آج رات غزہ میں نو اسرائیلی حملے کے شکار بچوں کی تصاویر دیکھی ہیں؟۔ اور پھر برطانیہ کے سکریٹری خارجہ حماس کی مذمت کرتے ہیں کہ انہوں نے اسرائیل پر حملے کیے۔ ہم آپ کے دوہرے معیار سے تنگ آچکے ہیں۔

انہوں نے اینکر کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بات ہمیشہ جوابی کارروائی سے کیوں شروع ہوتی ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں پر مظالم ڈھاتا ہے۔ مسجد اقصیٰ کی حرمت کو پامال کرکے نمازیوں کو زخمی کرتا ہے اور جب فلسطینی یا حماس حملہ کرتے ہیں تو صرف اُسے دکھایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ غاصب اسرائیلی  فوج نے رواں ہفتے کے دوران متعدد مواقع پر مسجد اقصی پر دھاوا بولا ، فلسطینی نمازیوں کو گولی ماریں جس میں کئی فلسطینی شدید زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب اسرائیلی جارحیت کے سبب غزہ  میں درجنوں فلسطینی اب تک شہید ہوچکے ہیں جن میں خواتین اورمعصوم بچے بھی شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے