عراق: امریکہ کے دہشتگرد فوجیوں کی پسپائی

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق عراق میں امریکہ کے دہشتگرد فوجیوں نے اربیل فوجی اڈے کو خالی کردیا ہے۔

مھر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراق میں امریکہ کے دہشتگرد فوجیوں نے اربیل فوجی اڈے کو خالی کر کے «Fort Bliss Texas» فوجی اڈے میں نقل مکانی کی ہے۔

عراقی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق واشنگٹن کے اقدامات کے باوجود ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ امریکہ کے دہشتگرد فوجیوں نے پسپائی اختیار کی یا پھر صرف اپنی عسکری پالیسی میں تبدیلی کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے دہشتگرد فوجیوں کی نقل و حرکت اور پسپائی سے دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ نے استقامتی محاذ کی جانب سے امریکی فوجیوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی کے بعد یہ اقدام کیا ہے۔ اس لئے کہ استقامتی محاذ نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ اس  کے بعد امریکہ کے دہشتگرد فوجیوں کے خلاف استقامتی محاذ کی نئی کارروائی شروع ہو گی جس میں امریکی فوجیوں اور ان کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ استقامتی محاذ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم عراق کو غاصبوں سے پاک وصاف کریں گے اور یہ عراقی عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے۔

عراقی پارلیمٹ کے متعدد ارکان نے بھی اپنے ملک سے امریکی فوج کے انخلا کو ضروری قرار دیا ہے۔ ان ارکان کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی موجودگی ملکی مفاد میں نہیں اور اس کے نتیجے میں عراق کو لاتعداد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ عراقی پارلیمنٹ نے 5 جنوری کو امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بل کو منظوری دی تھی اور تقریبا لاکھوں عراقیوں نے جنوری 2020 کے آخر میں احتجاجی مظاہرے کر کے عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا مطالبہ کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے